اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے اپنی سالانہ رپورٹ میں آٹھ عرب ممالک میں دینی آزادیوں سے متعلق بعض حقائق منظر عام پر لائے ہیں جن میں دینی اور مذہبی اقلیتوں کی صورت حال کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں سعودی عرب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف دینی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا اور ااس کی حمایت نہیں کرتا بلکہ ان آزادیوں کو کچلنے میں مصروف ہے!!اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ دوسری اقلیتوں سے کہیں زیادہ سیاسی، معاشی، قانونی، معاشرتی اور دینی سطوح پر سعودی حکمرانوں کے امتیازی سلوک کا شکار ہیں جبکہ دوسری اقلیتوں کو بھی کسی حد تک ان ہی امتتیازات کا سامنا ہے۔ حقیقت یہ ہے عالمی سطح پر سعودی عرب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بدلے کسی قسم کی تأدیبی اقدامات کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا کیونکہ امریکہ، برطانیہ اور تمام یورپی ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور سعودی حکمران علاقے میں مغربی مفادات کا محافظ تصور کیا جاتا ہے لیکن اس بار اس ملک میں اہل تشیع کے خلاف امتیازی رویئے اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ امریکہ بھی اپنے اتحادی کے طرز سلوک کے سامنے خاموشی کے نتیجے میں عالمی سطح پر اپنی روز افزوں بدنامی میں اضافے کے خوف سے ان حقائق کے بارے میں ایک رپورٹ دینے اور بول پڑنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت کی نسلی امتیازات پر مبنی پالیسی کے باعث حتی شیعیان حجاز کو کام اور تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی دوسروں سے کہیں کم سہولیات دی جاتی ہیں؛ سعودی حکومت نے اپنے سرکاری اداروں پر دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ اہل تشیع پر اپنے دباؤ میں اضافہ کردیں اور انہیں مساجد اور حسیینیات کی تعمیر اور دیگر دینی مراکز اور اداروں کی تأسیس کی آزادی سے محروم کردیں۔ اس رپورٹ میں البتہ شیعہ آبادی کے بارے میں بعض حقائق توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی 10 سے 15 فیصد آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے اور الشرقیہ کے علاقے میں شیعہ آبادی کا تناسب 33 سے 50 فیصد تک ہے لیکن مختلف سیاسی ـ اور حتی کہ ـ سرکاری عہدوں پر اہل تشیع کی موجودگی نہ ہونے کے برابے ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت حتی تعلیم و تربیت کے شعبے میں بھی اہل تشیع کے خلاف اپنی نسل پرستانہ پالیسی نافذ کرتی ہے اور حتی کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں شیعہ طلبہ، اساتذہ اور عہدیداروں کی تقرری میں بھی امتیازی رویہ اپناتی ہے۔ اس رپورٹ میں مثال کے طور پر شیعہ اکثریتی صوبے "الاحساء" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں الملک فیصل یونیورسٹی میں شیعہ اساتذہ کا تناسب دو فیصد ہے اور اس علاقے کے اسکولوں کے ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز کے درمیان اہل تشیع کا تناسب بمشکل ایک فیصد ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے وہابی عدالتوں کو اختیار کامل دیا ہے کہ وہ گنے چنے شیعہ ججوں کے فیصلوں کو نا فذ نہ ہونے دیں!!!اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں شیعہ ویب سائٹس کو فلٹر اور بند کیا گیا ہے اور شیعہ دینی، سیاسی، تعلیمی و ثقافتی شخصیات سمیت متعدد ویب لاگ نویسوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے حراست میں لے کر پابند سلاسل کردیا گیا ہے اور یہ افراد مقدمہ چلائے بغیر حبس بے جا کی زندگی کاٹ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110